07-Apr-2022 کہیں ملوں خود کو
غزل
بھیڑ میں کھو کہ آواز دوں خود کو
دیر تک خود تلاشا کروں خود کو
ناشناسا ہوں صورت سے اپنی ایسے
آٸینے میں پہچاں نا سکوں خود کو
تجھ کو پانے کی حسرت کیا ہو مجھے
بس دعا ہے کہیں میں ملوں خود کو
منتظر رات بھر رہوں خود کے لیۓ
کوستا رات بھر پھر رہوں خود کو
سجاد علی سجاد